دارالعلوم حمیدیہ،کلکتہ کی تعلیمی کارکردگی میرے لیےنہایت متاثر کن:مولانا محمد الیاس


رانچی/کلکتہ(مفتی احمد)کلکتہ کی معروف دینی دانش گاہ دارالعلوم حمیدیہ میں حاضری میرے لیے خوش بختی و سعادت کی بات ہے،کہ یہاں کے بانی و ذمہ داران کی محنت و جد وجہد اور ان کے کارہائے نمایاں سے واقفیت بہت متاثر کرنے والی ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء گریڈیہہ کے نائب صدر و جامعہ عثمان بن عفان،کھوری مہوا،گریڈیہہ کے مہتمم مولانا محمد الیاس مظاہری نے کلکتہ آمد کے موقع پر کیا۔

مزید انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی محرومی کی بات تھی کہ بارہا اس کارگزار ادارے کا نام اور اس کی تعلیمی،دینی وتربیتی خدمات کا تذکرہ سننے کے باوجوداپنی ذمہ داریوں اور مصروفیات کی باعث اس ادارے کی زیارت اور یہاں کی حاضری کےلیے پہلے وقت نہیں نکال سکا۔خیر “دیر آید،درست آید” کے مصداق چاہے میں یہاں دیر سے آ پایا،لیکن مجھے اس پہ بڑی حیرت آمیز خوشی ہوئی کہ اپنے محدود وسائل اور نامساعد حالات میں بھی اس ادارے کی خدمات کا دائرۂ کار کافی وسیع اور اس کی کارگزاری نہایت اطمینان بخش ہے۔انہوں نے ادارے کے ذمہ دار مولانا ندیم ندوی کی کوششوں اور ان کی فعالیت کا تذکرہ نہایت بلند وبالا الفاظ میں کیا اور بتایا کہ شہر کلکتہ کے عین قلب میں واقع اس عظیم اور کارگزار ادارے میں فی الوقت ساڑھے تین سو سے زائد طلبہ و طالبات کی عمدہ تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام ہے،نیز اس وقت ابتدائی دینیات سے لےکر حفظ،اور عربی دوم تک کے درجات جید اساتذہ کی محنتوں کے باعث ترقیات کے مدارج طے کر رہے ہیں۔مزید انہوں نے بتایا کہ مولانا ندیم ندوی کافی باذوق شخصیت  اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ان کے ادارے کے طلبہ و طالبات نے جہاں تعلیمی میدان میں اپنی لیاقت کا لوہا منوایا ہے،وہیں گاہے بگاہے کوئز مقابلے اور دیگر اضافی سرگرمیاں بھی ان کے زیر انتظام بہترین انداز میں انجام پاتی رہتی ہیں۔

ادارے کے ذمہ دار مولانا ندیم ندوی اور ادارے کے دیگر ذمہ داران و اساتذہ نے مولانا محمد الیاس مظاہری کا نہایت پر تپاک خیر مقدم کیا،اور مروجہ طریقے سے ہٹ کر بجائے گلدستہ و گل کے،خالص علمی انداز میں علامہ شبلی نعمانی کی شہرۂ آفاق تصنیف”سیرت النبی(صلی اللہ علیہ وسلم)” پیش کرکے ان کی عزت افزائی کی اور ان کا استقبال کیا۔مولانا ندیم ندوی نے مولانا محمد الیاس مظاہری کا تعارف کرواتے ہوئے کہا مولانا محمد الیاس نہایت فعال،متحرک،دھن کے پکے اور جو ٹھان لیا وہ کر گزرنے والی شخصیت ہیں۔یہ علامہ اقبال کے شعر:

اولولعزمان دانشمند جب کرنے پہ آتے ہیں

سمندر پاٹتے ہیں،کوہ سے دریا بہاتے ہیں

کے صحیح مصداق ہیں۔انہوں نے اپنی کارگاہ کے طور پر گریڈیہہ کے ایسے خطے کا انتخاب کیا جو ان کا وطن ہونے کے ساتھ تعلیمی و سماجی طور پر نہایت پسماندہ کہلاتا تھا،لیکن ان کی کوشش اور شب و روز کی انتھک کاوشوں کے طفیل جہاں دینی حلقوں جامعہ عثمان بن عفان کے حوالے سے جانا جاتا ہے،وہیں مسلمانوں کے عصری تعلیم یافتہ حلقے میں اسے اب اس جے یو اے پبلک اسکول کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے،جس نے بہت کم وقت میں مسلمان طلبہ کے لیے صرف پلس ٹو تک ہی عصری تعلیم کے حصول کو آسان نہیں بنایا،بلکہ جے ای ای اور NEET جیسے سخت ترین مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کا موقع فراہم کرکے ان میں شرکت کا حوصلہ بھی دیا۔مولانا الیاس ابھی حال ہی آل گریڈیہہ کوئز کمپٹیشن کا انعقاد بھی کروایا،جس میں پورے گریڈیہہ ضلع سے ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے حصہ لیا،جس کے نتائج اعلان عن قریب ہونا ہے اور اس میں کام یاب طلبہ و طالبات کو انعامات سے سرفراز کیا جانا ہے۔ساتھ آپ کی رفاہی،ملی و سماجی خدمات میں حسب ضرورت بیمار وپریشان حال افراد کی نقد پیسوں اور نیک مشوروں سے مدد کے علاوہ مساجد کی تعمیر اور بور ویل کی کھدائی کے ذریعہ خلق خدا کو سیراب کیے جانے جیسے رفاہی کام بھی شامل ہیں۔ہم ان کی خدمات اور ان کی شخصیت کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں،اور توقع کرتے ہیں کہ دارالعلوم حمیدیہ سے ان کا تعلق مزید مستحکم کے ہونے کے ساتھ ساتھ دوام و ثبات سے متصف ہوگا۔

مولانا محمد الیاس نے اپنےلیے اس دن کو ایک یادگار دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج میرا پہلی بار یہاں مختصر سے وقت کےلیے آنا ہوا ہے مگر مولانا ندیم ندوی کی کشادہ ظرفی وانتظامی لیاقت،ادارے کا تعلیمی نظام وکارکردگی،اساتذہ کی خوش اخلاقی و متانت اور طلبہ کا ذوق علم و محنت نے میرے دل میں گھر کر لیا۔لہذا،آئندہ ان شاءاللہ اس ادارے اور اس کے متعلقین سے میرا رابطہ استوار رہےگا۔

انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس دعاء پر کیا کہ اللہ تبارک و تعالی اس ادارے کو دن دونی رات چوگنی ترقیات سے نوازے اور اس کے ذمہ داران وشعبۂ تدریس و انتظام سے وابستہ حضرات کی خدمات کو قبول کرے،نیز مجھے بھی اس کےلیے ہر طرح کی معاونت کی توفیق عطا فرمائے۔اس موقع پے جناب قاری شاہد صاحب عرفانی نائب مہتمم دارالعلوم حمیدیہ جناب مولانا عبدالقدوس صاحب مظاہری جناب مولانا نوشاو عالم صاحب قاسمی جناب قاری معراج عالم مظاہری جناب مولانا آفتاب عالم ندوی جناب حافظ علی حسن کے علاوہ حافظ شمس الحق صاحب حسینی خادم مدرسہ تعلیم القرآن کلکتہ موجود تھے

Post a Comment

0 Comments

Hopewell Hospital
Shah Residency IMG
S.R Enterprises IMG
Safe Aqua Care Pvt Ltd Image