بابری مسجد صبح قیامت تک مسجد ہی رہیگی، شہادت بابری مسجد کو بھلایانہیں جاسکتا: مولانامحمد قطب الدین رضوی

 


بابری مسجد صبح قیامت تک مسجد ہی رہیگی، شہادت بابری مسجد کو بھلایانہیں جاسکتا: مولانامحمد قطب الدین رضوی

رانچی/نئ دھلی۔ انٹر نیشنل علماء کاؤنسل فی الھند کے جوائینٹ سیکرٹری اور ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولانا محمدا قطب الدین رضوی نے شھادت بابری مسجد کی برسی پر کہا ہے کہ جہاں چارسو سال تک نماز باجماعت ہوتی رہی اس عظیم تاریخی بابری مسجد کو ملک کے غداروں دہشت گرد کارسیوکوں نے نہایت سفاکانہ طریقہ سے مسمار کردیا جس سے پوراملک لہولہان ہوااور آج تک ھندوستان کے ذرے ذرے سے دل دھلادینے والے صداے احتجاج بلند ہورہی ہے۔

مولانارضوی نے کہاکہ آج تک ملک کاذرہ ذرہ بابری مسجد منہدم کرنے والوں کے جبروظلم سے کراہ رہاہے پھر یہی نہیں اس عظیم سانحہ سے ملک کاسیکولرڈھانچہ تڑپ اٹھا، ھندودہشت گردوں، کارسیوکوں ملک کے غداروں نے بابری مسجد کو شھید کرنے سے پہلے بھی پورے ملک کی فضامکدر کرکے ہزاروں جگہ دنگے کیئے اور قتل وغارت گری کابازار گرم رکھاپھر بابری مسجد کو منہدم کرنے کے بعد بھی ملک کے بے قصور نہتے مسلمانوں کاقتل کرتے رہے، مسلمانوں کی دکانوں، گھروں اور بستیوں میں آگ لگاتے رہے لیکن وہ رے ستم ظریفی کے آج تک ان دہشت گردوں پرکوئ کارروائی نہیں ہوئ ۔ناظم اعلی مولانا محمد قطب الدین رضوی نے کہاکہ ستم بالائے ستم کہ سنگھ پریوار بھاجپانے 20144 کے لوک سبھامیں اکثریتی فرقہ کے درمیان مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاکر ھندوؤں کے مذہبی جذبات بھڑکاکر تمام تر ہتھکنڈے کااستعمال کر ؤوٹ حاصل کیادھاندلی لوک سبھامیں اکثریت حاصل کر لیا اور اب تک غیرجمہوری، غیرآئینی، غیراصولی جبری ہروہ کام کررہی ہے جس سے ملک وسماج کو نقصان پہونچے ۔مولانارضوی نے کہاکہ مرکزکی حکومت نے بابری مسجد معاملے میں عدالتوں کوغلط استعمال کیااور عدالت عظمیٰ سپریم کورٹ سے وہ سیاہ وبدنمافیصلہ کروایاکہ بھاجپاکو عدالتیں اور ملک کی مٹی کبھی معاف نہیں کریگی، مولانارضوی نے کہاکہ پوری دنیاکو حیرت اس وقت ہوئ جب بابری مسجد معاملے میں عدالت عظمی سپریم کورٹ نے صرف اور صرف ھندوؤں کی آستھاکی بنیاد پر بابری مسجد کی جگہ کو رام مندر بنانے کے لئے فیصلہ سنایااس فیصلے سے پوری دنیا حیرت واستعجاب میں پڑ گئ چونکہ تمام ترزمینی حقائق، شواہد، دلائل، فورنسک رپورٹ، آثارقدیمہ رپورٹ، کمیشن رپورٹ اور سارے دستاویزات بابری مسجد کے حق میں واضح ہوگئے کہ یقینابابری مسجد اپنی جگہ پر قائم ودائم ہے اور وہ جگہ رام کی جاے پیدائش نہیں ہے اور سپریم کورٹ نے بھی ماناکہ بابری مسجد اپنی جگہ پر ہے لیکن اس کے باوجود صرف اور صرف بھاجپائ ھندوؤں کی آستھاکے بنیاد پر مندر کے حق میں فیصلہ سنا دیا گیا اور سیکولر ملک کا وزیر اعظم اور پوری بھاھپالووبی رام مندر کے نام پر ملک کے اکثریتی طبقہ کااستحصال کر ملک کے آئینی ڈھانچہ کو گراکر جبرارام مندربنانے کی طرف گامزن ہے۔ناظم اعلی نے کہاکہ ملک کے مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی جانوں کی قربانی دیکر ملک کو آزاد کرانے سے لیکر جمہوریت کی حفاظت، گنگاجمنی تہذیب کو مستحکم، ملک کے ساتھ وفاداری، عدلیہ پریقین وبھروسہ اور ملک کے ہرایک ذرے سے عزیز رکھاصبروتحمل کیااور اتناظلم ہونے باجود بھی مسلمان صبروتحمل سے کام لے رہے ہیں اور ملک کی حفاظت وترقی کے لئے اپنی قربانی دیتے ہوے صبروتحمل کرتے رہینگے۔ناظم اعلی نے کہاکہ بابری مسجد کاڈھانچہ گرادینے سے ازروے شرع مسجد کاحکم بدل نہیں جاتابلکہ بابربری مسجد صبح قیامت تک مسجد ہی رہیگی مسلمان اللہ رب العزت پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں اور کرتے رہینگے چاہے ظلم جتنابھی بڑھے۔انہوں نے ملک کے تمام مسلمانوں سے اپیل کیاکہ وہ ہرسال 6/ دسمبر کو یوم سیاہ منائیں اور بابری مسجد کی شہادت کو یاد کرتے ہوے بارگاہ الہی سے دعاکریں۔
مولاناقطب الدین رضوی نے کہاکہ 
 یکم فروری 1986ء کو فیض آباد کے ضلع جج مسٹر کے ایم پانڈے کی جانب سے رام جنم بھومی کےصدردروازے پر لگے تالے کو کھولنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس موضوع پر مبنی فرقہ وارانہ فسادات کا دروازہ کھل گیا۔ اس حکم کے تحت وہاں پر ہندوؤں کو لگاتارپوجا ارچنا کرنے کا موقع مل گیا۔ اس سے ہندو ذہنیت کو پرتشدد ہونے کا بھی موقع مل گیا۔ نتیجتاً انھوں نے مذکورہ ڈھانچے کے مقام پر ایک عالی شان رام مندر بنانے کا عزم کرلیا۔پھر کیا تھا ایک ہی نعرہ چاروں  طرف گونجنے لگا—’’سوگندھ رام کی کھاتےہیں، مندر وہیں بنائیں گے!‘‘ ہندوؤں کے اس ارادے سے مسلمانوں نے بھی ردِ عمل کا رویہ اختیار کیا ۔14؍فروری 1986ءکو مسلمانوں نے مخالفت میں ’یوم سیاہ‘ منایا۔ اس دن ملک میں کئی مقامات پر فسادات ہوئے اور سماج میں کشیدگی کاماحول بن گیا۔
26جنوری 1987ءکو جب جنتادَل کے لیڈر شہاب الدین کی قیادت میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے یوم جمہوریہ کا بائیکاٹ کیا۔ اس کا فائدہ اٹھا کر اکثریتی فرقے کےلیڈروں نے اپنے لوگوں میں انتشار ونفرت کے بیج کوٹ کوٹ کر بھر دیےجو کسی بھی وقت کسی بھی قسم کاذراسا بہانہ پاکر اپنی شکل دکھانے کے لیے بےقراربنے ہوئے تھے۔
سنہ 1987ءمیں میرٹھ میں بھیانک فسادات اسی کے نتائج بد تھے۔وہاں پر فسادات کا آغاز 15؍اپریل سے ہو گیا تھا۔اگرچہ میرٹھ میں فسادات وقتاً فوقتاً ہوتے آئے ہیں،لیکن اس سال میں فسادات کی مخصوص خصوصیت تھی۔ ایسے بھیانک اور مذموم فسادات میں مرنے والوں کی تعدادسرکاری اعدادوشمار کے مطابق 100بتائی گئی ہے۔  لیکن اس میں جان ومال کے نقصان کا اندازہ لگانادشوار تھا۔ جب کے صرف مئی کے فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 70 اور درجنوں دکانوں، بسوں و گھروں کے نذرآتش کیے جانے کی خبریں تھیں۔ 
28؍دسمبر1989ءکو بدایوں میں ایسا فساد بھڑکاجس نے برسوں سے محبت اور بھائی چارے کی ڈورکو پل بھر میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا، بابری مسجد /رام جنم بھومی کے بہانے ہزاروں ہزار فسادات برپاکیئے گئے
25؍اکتوبر سے 18؍نومبر 1989تک بھاگلپور میں بھیانک فسادات ہوئے جس کے سدِ باب کے لیے فوج بلائی گئی تھی۔ اس بھیانک خوں ریزی میں165 لوگوں کی بھینٹ دی گئی۔مذکورہ موقع پر بہار کے دیگر علاقوں میں بھیانک فسادات ہوئے۔7؍نومبر کے سہسرام کے فساد میں 8؍افراد کی جانیں گئیں۔7؍اکتوبر کو اندور کے فسادات میں 40 لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ 23؍اگتوبر کو سیتامڑھی کے فسادات میں 13لوگوں کا قتل کردیا گیا۔

10؍نومبر 1989ءکو ایودھیا میں سری رام مندر کا شیلا نیاس کیا گیا۔11؍نومبر کو ریاستی حکومت نے کارسیوا پر پابندی عائد کردی۔اس موقع پر ملک کے متعدد علاقوں میں فسادات ہوئے۔ 24؍جون 1990ءکوہری دوار کے سنت سمّیلن میں لال کرشن آڈوانی نے سوم ناتھ مندر سے ایودھیا کو رتھ یاترا شروع کی۔24؍اکتوبر کو رتھ یاترا روک کر مسٹر آڈوانی کو گرفتار کیا گیا۔ اس عرصے میں ملک کے کئی حصوں میں فرقہ وارانہ فسادات بھیانک رخ اختیار کررہے تھے۔اکتوبر کا پہلا ہفتہ پوری  طرح خون سے رنگا  رہا۔گونڈہ ضلع کرنل  گنج میں 200افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔  چن پٹنا کولا داونگیرے میں 20؍افراد کی موت اور 60زخمی ہوئے۔   بنگلور میں فرقہ وارانہ تشدد میں آٹھ کے قتل اور 40کو زخمی کردیا۔   بجنور میں ایک مارا گیا اور 100زخمی ہو گئے۔  اس کے علاوہ بیدر، وڈودرا ، بمبئی، لوناوڈے پالن پور، اودے پور وغیرہ مقامات وسیع فسادات ہوئے۔
مسٹر آڈوانی کی گرفتاری کی مخالفت میں 24؍اکتوبر کو بھارت بند رکھا گیا، جس میں  تشدد میں 18لوگ مارے گئے۔ 25؍اکتوبر کے سہارن پور میں مندرکی  تعمیر کو لے کر ایک شخص نے خودکشی کی، جے پورمیں 42سمیت سارے ملک میں 61 لو گ فسادات کی بھینٹ چڑھ گئے۔26؍اکتوبر کو ملک میں بھی آڈوانی کی گرفتاری پر بھڑکے تشددمیں مرنے والوں کی تعداد82ہوئی۔، رانچی میں کرفیوکے بعد تشدد بھڑکااورفوج تعینات کی گئی۔
29؍اکتوبر کو اتر پردیش کے کئی شہروں نے تشدد کی لہر پھیل گئی۔لکھنؤ میں فوج تعینات کر دی گئی۔ کئی دیگر شہروں میں کرفیو لگا دیا گیا۔ 30؍اکتوبر کو کارسیوکوں نے گھیرا توڑا، مسجد کے گمبد پر جھنڈا لہرایا۔ دولاکھ کارسیوک ایودھیا پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، ملک کے مختلف حصوں میں پُر تشدد واقعات ہوئے۔ فسادات میں سب سے زیادہ لوگ گجرات میں مارے گئے۔مولانارضوی نے راجیہ سبھاکی ایک رپورٹ کے حوالے سے کہاکہ بابری مسجد/رامجنم بھومی معاملے میں ھنشوشدت پسندوں نے 1987سے 2017 تک پورے بھارت میں تقریبا ایک لاکھ چھیاسی زار دفعہ فساد برپاکیاگیا۔انہوں نے ملک کے عام عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ جمہوریت کو مضبوط و مستحکم متحد ہوکر ملک کی حفاظت کے لئے آگے آئیں، 

Post a Comment

0 Comments

MK Advance Dental Hospital
Hopewell Hospital
Shah Residency IMG
S.R Enterprises IMG
Safe Aqua Care Pvt Ltd Image