ہمینت حکومت اقلیتی محکموں کی تشکیل کو

 


مسلمان راکھ کے نیچے دباہے چراغ بھجانہیں ہے زبان کی آواز اور کاغذ کی آوازسنبھالیں برسر اقتدار : مولاناغلام رسول بلیاوی 

 

سماج  اور سیاست میں قوم کو بکنے سے بچانا وقت کی اہم ضرورت : مفتی شمس الدین 

ہمینت حکومت اقلیتی محکموں کی تشکیل کو بہت جلد بناے یقینی: مولانا محمد قطب الدین رضوی

ادارہ شرعیہ تحریک بیداری واصلاح معاشرہ کانفرنس بشنوگڑھ میں ہوا انعقاد ، 50  پچاس ہزارسے زائد لوگوں نے کی شرکت 

بشنوگڑھ ہزاریباغ(ثقافی)  مورخہ 16 جنوری 2023 حسب پروگرام  16 جنوری 2023  بروز سوموار ملک کےمسلمانوں کامضبوط ومستحکم نمائندہ ادارہ مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ کا ایک نورانی قافلہ صدرمحترم،سابق ممبرآف پارلیمنٹ مولاناغلام رسول بلیاوی کی قیادت وسربراہی میں بشنوگڑھ ہزاری باغ کی سرزمین پر پہونچاجہاں کے علماء اور ذمہ داروں نےمہمانوں کااستقبال کیا۔شہرکے مختلف ذمہ داران سے اصلاح معاشرہ وموجودہ صورت حال پرتبادلہ خیال ہوا۔حسب پروگرام مورخہ 16 جنوری کو بوقت 10 بجے دن ادارہ شرعیہ تحریک بیداری واصلاح معاشرہ کانفرنس کاآغاز قرآن مقدس کی تلاوت سے ہوا۔اس تحریک بیداری کانفرنس میں بشنوگڑھ،ہزاریباغ اور قرب وجوار کے اضلاع سے سینکڑوں علما اور ہزاروں ہزار عامۃ المسلمین نے شرکت کی۔نہایت ہی شان وشوکت کے ساتھ اپنے ۔موضوع مقصدکے تعلق سے پروگرام رواں پذیرہوا علماء وخطباء شعرا یکے بعددیگرے دئے گئے موضوع پر نہایت ہی مبسوط اور جامع گفتگوفرمائ۔کانفرنس کے چیف گیسٹ اور تحریک کے قائدوسربراہ مرکزی ادارہ شرعیہ کے قومی صدر،سابق ممبرآف پارلیمنٹ مولاناغلام رسول بلیاوی نے جم غفیرسے نہایت ہی نکات آفریں اور دل سوز،ذہن ساز گفتگوفرماتے ہوئے ملک کے نوجوانوں کوللکارا اور ببانگ دہل کہاکہ آنے والے دور میں نسلوں کی تصویرکس قدر خطرناک ہے اس کا اندازہ اخبارکی سرخیوں سے روز آپ محسوس کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی شرح تعلیم چار فیصدسے بھی کم ہے اورملازمتوں میں ایک فیصدسے کم ہے اسی طرح سے روزگارمیں تجارت میں دوفیصدسے کم ہے جبکہ پورے بھارت کے جیلوں میں مسلم بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے یہ ایک ایساکڑوا سچ ہے جس کی طرف ہرحساس ذہن وفکر کاشخص فکروتدبرکرنے پرمجبورہورہاہے۔غازی ملت علامہ غلام رسول بلیاوی نے کہاکہ آج مسلم معاشرے کی زمینیں 70فیصدبک گئیں ہیں وہ کسی تجارت کے لئے نہیں بلکہ مطالبہ جہیزسے مجبورہوکر بیٹیوں کی شادی کرنے کے لئے جیسے تیسے بک گئیں۔جس زمین کوہمارے آباو اجداد نے پنتابھات اور سوکھی روٹی پر اکتفاکرکے بچایاتھالہو میں ڈوبی ہوئ زمین کولعنت جہیزنے بکوا دیا۔آج ہمارا معاشرہ تعلیمی،مذہبی،سماجی،اقتصادی،معاشرتی،ملی اورفلاحی اعتبارسے ہرقوم سے پسماندہ ہے۔مولانابلیاوی نے کہاکہ آج ملک میں مسلم اقلیت محفوظ نہیں ہے ان کے مذہبی جذبات کو کوئ ٹھیس پہونچادیتاہے اورکوئ بھی گروپ اس کی لینچنگ کرجاتاہے سرکاریں یونہی تماشائی بنی رہتی ہے۔انہوں نے علماء اور عامۃ المسلمین سے کہاکہ اب ضرورت آن پڑی ہے کہ ہرمحاذ میں ترقی کے منازل طئے کرنے کے لئے حساسیت کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرعمل کے میدان میں اتریں۔اورقوم وملت کی نئ نسلوں کے مستقبل روشن کریں۔مجمع عام سے علامہ غلام رسول بلیاوی کی تقریرسے متاثرہوکر تقریبا500 غیرشادی شدہ نوجوانوں نے جہیزڈیمانڈنہ کرنے کاعہدکیااورسینکڑوں گارجینوں نے اس اعلان کااستقبال کرتے ہوئے دئیے گئے ہدایت پرعمل کرنےکابھی عزم کیا۔قائد تحریک کی آواز پر دودرجن مساجد ومدارس کے صدروسکریٹری نے یہ عہدکیاکہ آنے والے جمعہ میں اپنے امام سے اعلان کروا دوں گاکہ ہمارے گاؤں میں ڈی جے،پٹاخہ،باجا،ڈیمانڈرکی بارات کانکاح نہیں ہو سکتا۔علماء اور ائمہ مساجدنے بھی اصلاح معاشرہ اورتحریک بیداری کے تعلق سے اپنابھرپور تعاون  دینے اور گھرگھر تک تحریک کوپہونچانے کی یقین دہانی کرائ۔

غازی ملت نے مدارس اسلامیہ کے حوالہ سے کہاکہ اب وقت ایساآگیاہے کہ گھڑی دیکھ کر نہ پڑھائے اب ضرورت دیکھکر پڑھائے پھر فارغ التحصیل صرف ممبر کاامام نہیں ہوگا بلکہ ممبر پر قرآن سنائے گااور وقت آنے پر ملک کاسویدھان بھی سنوارے گا۔قائد تحریک نے کہاکہ مسلمان راکھ کے نیچے دباہے چراغ بجھانہیں ہے اب کاغذ کی آواز اور زبان کی آواز برسر اقتدار سنبالیں بہت جلد رانچی میں اتر کر جواب دیں گے کہ آپ ستاکے لئے کہیں بھی جاسکتے ہیں تو ہم اپنے حقوق کی فراہمی اور تحفظات کے کئے کہیں بھی جاسکتے ہیں۔
ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلی مولاناقطب الدین رضوی نے اجلاس کی نظامت کی اور قرار داد پیش کیا۔حضرت پیرطریقت خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت مفتی شمس الدین صاحب نے عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نمازکی پابندی کے ساتھ نمازکی حفاظت کرناسیکھیں اوراپنے معاشرے کومنشیات سے پاک ومنزہ کریں اور مہر،نکاح،طلاق،دینی شناخت،اسلامی تشخصات پر سیرحاصل بحث کرتے ہوئے کہاکہ جو قوم اپنی شناخت مٹادیتی ہے وہ قوم مرجاتی ہے مردہ میں ان کا شمارہوتاہے جس دن قوم جاگ گئ تو انقلاب تامہ اگنامقدر بن جائےگا۔انہوں نے کہاکہ تحریک ادارہ شرعیہ سے ہرشخص کومنسلک رہ کر اصلاح معاشرہ کی تکمیل میں اہم کردار نبھائیں۔ 
پیرطریقت سیدشاہ علقمہ شبلی نے  کہاکہ ادارہ شرعیہ ملک وملت کے خدمات میں صف اول میں رہاہے جنہوں نے ہندوستان کےجس خطے میں جب جب زلزلے یاسیلاب وفسادات ہوئے اس سلگتے ہوئے ماحول میں بھی معاشرے کی اعانت کی ہے اور قوم کی بے مثال خدمات انجام دیاہےاین آرسی،سی اےاے،ٹرپل طلاق میں سڑک سے سدن تک اورعدالت عظمی تک سرگرم رہاہے اب وقت ہے ادارہ شرعیہ تحریک سے جڑ کر مضبوط سے مضبوط ہوجائیں۔
ناظم اعلی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ مولاناقطب الدین رضوی نےکہاکہ ماضی کی تاریخ میں بادشاہت،روزگار،تعلیم،ہنر،عدل وانصاف کے میدان میں جوتاریخ رہی ہیں ان تاریخوں کوہمیں بھولنانہیں چاہیے آج اپنے بچوں کواس معیارکابھی علم دیناچاہئے جس سے مستقبل کی تاریخ روشن ہوجائے۔
ادارہ شرعیہ کے نائب قاضی مفتی غلام حسین ثقافی نے سامعین سے ناموس رسالت موضوع پرخطاب کرتے ہوئے کہا انسانی زندگی کے جتنے بھی مراحل ہیں ان تمام شعبوں میں اسلام کی تعلیمات،محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی فرمودات سب سے اہم،سب سے ہمہ گیر،اور کمپلٹ کوڈ آف لائف ہے۔انہوں نے کہاکہ آج ضرورت ہے پوری دنیاکوسیرت مصطفی سے آشناکرانا سیرت مصطفی ہی وہ پہلو ہے جس سے ہم پوری دنیاکو پیغام امن سے آراستہ کرا سکتے ہیں اور ساتھ جو ناموس نبی کے خلاف بولتے ہیں ان پر زبردست قانونی شکنجہ کساجائے اور اس طرح کی زبان روکنے کے لئے قانون کانفاذ یقینی کیاجائے۔
 ضلع ہزاری باغ کے قاضی شریعت مفتی عبدالجلیل سعدی نے اختلاف اور اس کے سدباب کے موضوع پر کہاکہ آج ضرورت ہم اپنے مسلکی،مشربی،ذات،پات کے اختلافات کوختم کرکے تحریک حصہ بنیں غازی ملت کے بازوں کومضبوط سے مضبوط تر کریں اور تحریک کے عزائم کی تکمیل ہرممکن کوشش کرنے کاعہدکریں۔
ضلع ہزاریباغ کے محرراور قلم کار مفتی محب رضا فیضی نے لعنت جہیزکے موضوع پر خطاب کیاکہاکہ جہیز ایک وائرس ہے جوکوروناسے بھی زیادہ خطرناک ہے آج قوم کی بیٹیاں سسک رہی ہے خودکشی کرنے پرمجبورہے،باپ کی کمر کمزورہورہی ہے زمین وجائیداد بک رہی ہے یہ سب کمزوریاں جہیزنے مرتب کردیاہے ایسے حالات میں ادارہ شرعیہ تحریک چلی ہے جو ان خرافات پر قدغن لگائے گااوراس کاسفاکانہ خاتمہ کرے گا جن سے جو ہوسکے انہیں چاہئے وہ تحریک کاحصہ بنیں۔قاری عبدالمبین ناظم جامعہ حضرت عائشہ للبنات اسری نے کہاکہ قبرستان والے جاگے ہیں ہم سوئے ہیں ہم اگربیدار ہیں تو اپنی بیداری سے قوم کو آشناکراناوقت کی پکارہے۔مجمع عام کودیگر علاقائ علماء نے بھی نے بھی خطاب کیا۔جب کہ ہندوستان کے مشہورشاعرجناب دلبرشاہی،توقیرالہ آبادی،جناب فخرالدین بلیاوی نے خوبصورت اورموضوع سے متعلق کلام پیش کیا۔بشنوگڑہ ہزاریباغ تحریک بیداری کانفرنس میں مولانانوشاد،مولاناالطاف،حافظ غلام  نبی،جمیل اختر،مولاناحسنین رضا،مولانارفیق احمد،مولاناامتیاز،مولاناشمشیر،مولانانیس،مولانامعراج، مولاناحسن رضا،مولانااحمدرضا،مولاناعالم رضا،مولناظاہررضا،مولنامرشد،مولانامحمداقبال،مولاناعبدالرزاق،مولنابشیر،محمدعاشق،شان محمدرضوی،محمدجسیم الدین،مولاناتوحیدربانی،مولناالطاف رضوی،مولاناشہاب الدین ،مفتی مظفرحسین بوکارو،مولاناتوفیق عالم ،مولانامحمدظہیر،مولاناشبیر،حافظ معین،مولنامحمدہاشم،مولنامحمدشہادت،مولاناتوفیق رضوی،مولناحدیث،مولناآزادحسین،الحاج مولانافضل غنی،مولاناطارق،مولاناشفیق احمد،مولانافیروزالدولہ،مولنانظام الدین اور ان کے علاوہ اطراف وکناف کے مقتدرعلمائے اسلام وائمہ کرام نے شرکت کی۔جبکہ عوام انصارنگر،چانکیا،نوادہ،پگار،کسمبھا،بناسو،بشنوگڑھ،بھلوا،بکسپورا،چانو،منگرو،نواٹانڑ،مرگاواں ودیگر علاقوں کے ہزارہاہزار افراد شامل ہوئے۔ کانفرنس کوکامیاب بنانے میں  جناب محمودعالم ضلع ادھیکچھ،عمران رضا،محمدناظرحسین،محمدذیشان،محمدابرار،محمدنظام انصاری،عبدالشکور،مولناجمیل ،مولاناالطاف،مولاناحسنین،حافظ انصاری،ذاکرحسین ،سلیمان انصاری،عبدالجلیل انصاری اور دیگر علاقہ کے ذمہ داران نے میں اہم رول ادا کیا۔کانفرنس کااختتام صلاۃ وسلام اوردعاپرہوا۔ اخیرمیں ادارہ شرعیہ جھارکھنڈکے ناظم اعلی مولاناقطب الدین رضوی نے 10 نکاتی قرارداد پیش کیاجسے تمام علماء ومشائخ وعامۃ المسلمین نے تائیدوحمایت کی۔جو قرارداد مندرجہ ذیل ہے۔
(1)ادھر چندسالوں سےملک کے اکثروبیشترحصےمیں دشمنان اسلام نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرناشروع کردیاہے اوران کے خلاف کوئ ٹھوس کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حوصلے بلندہورہے ہیں ان کے اقوال وعوامل سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں مسلمان کسی بھی حال میں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں  گستاخی نہیں کرسکتااب ہمارے وطن میں یہ ضروری ہوگیاہے کہ جو عناصرپیغمبراسلام کی شان میں ذرہ برابر بھی گستاخی کرے ان کوکڑی سزادی جائے لہذا آج کااجلاس ہندوستان کے تمام ریاستی حکومتوں اورمرکزی حکومت سے پرزورمطالبہ کرتاہے کہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے قانون بناکرمجرموں کوکیفرکردار تک پہونچانےکاٹھوس قدم اٹھایاجائے۔
(2)  اس پرفتن دور میں بھارت کے اکثروبیشترحصے میں مسلم اقلیت کے افرادکوموب لینچنگ کے ذریعہ اوردیگرمنصوبوں کے تحت سخت اذیتیں پہونچاتے ہوئے شرپسندعناصروں کامسلم اقلیت پرحملہ،عزت وآبرو اورجان ومال کے در پہ ہوگئے ہیں ایسی صورت میں مرکزی حکومت سے مانگ کی جاتی ہے کہ وہ مسلم سیکیورٹی ایکٹ نافذکراقلیتوں کے جان ومال کی حفاظت یقینی بنائے۔
(3) ملک میں اکثریتی فرقہ کے مذہبی جذبہ کوبھڑکاکر،دلت۔مسلم  اور دیگراقلیتوں کے خلاف مذہبی منافرت پیداکر فضامکدرکی جارہی ہے ایسے عناصرپر تعزیرات ہندکے دفعات نافذکرکےایسے عناصرکوکیفرکردارتک پہونچایاجائے۔
(4)  پورے بہارمیں مسلم اقلیت کی تعداد ملازمت اوراقتدارمیں گھٹتے جاناتشویشناک ہے۔اقلیت کی اتنی بڑی آبادی کونظراندازکرترقی کے مراحل طئے نہیں کئے جاسکتے۔لہذا مسلم اقلیت کے سماجی،معاشرتی،تعلیمی،فلاحی پسماندگی کے مدنظرآبادی کے تناسب میں ملازمت اور اقتدار میں حصہ داری کو یقینی بنایاجائے۔
(5)  زبان اردو ملک کی تاریخ،ثقافت اور تہذیب وتمدن کاایک معیارہے اورصوبہ بہارکی ثانوی زبان بھی۔لیکن اس زبان اردوکے فروغ وارتقاء کے لئے کوئی مضبوط پہل نہیں ہورہی ہے جس کانتیجہ ہے کہ پرائمری،مڈل،ہائ اسکول اور کالجوں میں زبان اردو دم توڑ رہی ہے بایں وجہ جہاں محبان اردو کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہرمحاذ پرزبان اردوکی ترویج ملحوظ نظررکھیں۔وہیں جن اسکولوں میں اردویونٹ نہیں ہے وہاں اردویونٹ قائم کی جائے اور جن جن تعلیمی اداروں میں اردویونٹ توہے لیکن اساتذہ نہیں ۔وہاں پر اساتذہ کی تقرری ہو درسی کتابیں بزبان اردو دستیاب ہوں اور زبان اردوکو روزگار سے جوڑا جائےاورمحبان اردو دکانوں ،سرکاری دفاتر،تعلیمی اداروں سرکاری ہوں یاغیرسرکاری اردومیں نام پلیٹ مہم کو جاری رکھیں۔
(6) مسلم معاشرے میں جہیزکامطالبہ بڑھتاجاتارہاہے یہ ایک بڑی لعنت ہے فضول خرچی بھی اس قدربڑھ رہی ہے جو سماج کوتناہی کے دہانے پرپہونچارہی ہے۔مطالبہ جہیزاورشادیات میں فضول خرچی کی وجہ سے بیٹیوں کےماں باپ یاگارجینوں کی زمینیں جیسے تیسے بک رہی ہیں اور مسلم معاشرے سے ایک بڑا اثاثہ ختم ہورہاہے۔آج کا یہ اجلاس مسلم سماج کے ہرخاص وعام سے ہدایت کرتاہے کہ وہ شادیات کوسستاکریں اور مطالبہ جہیزکی لعنت سے خود بھی بچیں اوردوسروں کوبھی  چائیں۔جہیزکے ڈمانڈاورفضول خرچی کوروکنے کے لئے ہرچھوٹی بڑی تنظیمیں آغازکریں۔
(7) سماج کے نئ نسلوں میں منشیات کے بڑھتے رجحان ہرشخص  کوپریشان کررہاہے اسی طرح ارتداد کی شرح بڑھتی جارہی ہے بالخصوص دیہی وشہری علاقوں کی ناسمجھ مسلم لڑکیاں غیروں کے دام فریب میں آکر اپنامذہب اسلام چھوڑنے پرمجبور ہورہی ہیں لہذا ضروری ہے کہ منشیات سے پاک وصاف سماج کے لئے اور ارتداد سے سدباب کے لئے ہرمحلے میں تحریک بیداری شروع کی جائے۔
(8) مسلم معاشرہ میں دینی وعصری تعلیم کی شرح روزبروز گھٹتی جارہی ہے جس سے مسلم معاشرہ مزیدپسماندگی کی غارمیں پہونچ رہاہے۔لہذا کم کھائیں گے لیکن بچوں کوپڑھائیں گے پر عمل کرتے ہوئے ائمہ مساجد،علمائے کرام،انجمن اور کمیٹیوں کے ذمہ داران اور بااثر حضرات اس جانب خصوصی توجہ فرمائیں اور ہرسال قابل رشک تعلیمی شرح کے اضافے میں اہم کردار نبھائیں۔
(9) بشنوگڑھ نوادہ،ہزاریباغ جھارکھنڈمیں ضلع پرشاشن مسلم اقلیت کی بہترتعلیم وتربیت کےلئے لاجنگ اورفوڈنگ کے ساتھ الپسنکھیک بوائزہاسٹل اورالپسنکھیک گرلس ہاسٹل کی تعمیرکر ہرسہولت فراہم کریں۔
(10) بشنوگڑھ نوادہ کے ہرایک ایک کونے کونے میں قومی ہم آہنگی اور بھائ چارے کاماحول قائم ہے اس پرمضبوطی کے ساتھ ثابت قدم رہیں اور ہرحال میں امن وشانتی کوقائم رکھنااپناسماجی فریضہ سمجھیں۔

Post a Comment

0 Comments

MK Advance Dental Hospital
Hopewell Hospital
Shah Residency IMG
S.R Enterprises IMG
Safe Aqua Care Pvt Ltd Image